Geo News Special Report - معجون آتش کی حقائق

یاد رکھیں: مضبوط رشتوں کے لیے اچھی صحت کا ہونا بہت ضروری ہے! جب صحت اچھی نہ ہو تو رشتوں میں مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جو کہ زندگی کا ایک قدرتی اصول ہے۔
یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے جو نہ صرف مردوں کو بلکہ خواتین کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر مرد کی صحت میں کمزوری آ جائے تو اس کا براہ راست اثر آپس کے رشتے پر پڑتا ہے۔
اگر اس مسئلے کو شروع میں ہی نظر انداز کر دیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ تعلقات میں دوری کا باعث بنتا ہے اور بعض اوقات تو یہ علیحدگی تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
میں روزانہ ایسے بہت سے کیسز دیکھتا ہوں، لوگ میرے پاس آ کر کہتے ہیں کہ پہلے جیسی توانائی نہیں رہی، ہر وقت تھکاوٹ رہتی ہے اور رشتوں میں وہ پہلی والی بات نہیں رہی۔
دیکھیں اس میں شرمانے والی کوئی بات نہیں ہے، یہ ہر دوسرے مرد کے ساتھ ہوتا ہے، خاص طور پر 35 سال کی عمر کے بعد جسم میں بہت سی تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
اس کی بڑی وجہ ہماری آج کل کی خوراک ہے، نہ وہ خالص دودھ رہا نہ وہ دیسی گھی، اوپر سے ہر وقت کی ٹینشن اور موبائل کا زیادہ استعمال۔
میں نے اپنی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ جو لوگ وقت پر اپنی صحت کا خیال رکھ لیتے ہیں وہ آگے چل کر بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں۔
اور جو لوگ اس کو یہ سوچ کر ٹالتے رہتے ہیں کہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، ان کے لیے بعد میں معاملات زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں۔
اسی لیے آج میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ آپ گھر بیٹھے کس طرح اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں، اپنی توانائی کو بحال کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
ہمارے بزرگوں کے زمانے میں اس کے لیے خالص جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جاتا تھا جو جسم کو اندر سے مضبوط بناتی تھیں اور کھوئی ہوئی طاقت کو واپس لانے میں مدد دیتی تھیں۔
مسئلہ صرف یہ تھا کہ ان جڑی بوٹیوں کا کڑوا کاڑھا بنا کر پینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اسی لیے لوگ اس کو بیچ میں ہی چھوڑ دیتے تھے۔
میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ گھر پر رہتے ہوئے، مہنگے ڈاکٹروں، کیمیکل والی ادویات یا کسی آپریشن کے بغیر ممکن ہے۔
آج میں ایک ایسے مسئلے پر بات کروں گا جس پر اکثر مرد بات کرتے ہوئے شرماتے ہیں، بتاتے بھی نہیں ہیں اور اندر ہی اندر پریشان ہوتے رہتے ہیں۔
وہ مسئلہ ہے بار بار پیشاب آنا، رات کو نیند سے اٹھنا، مثانے کا مکمل خالی نہ ہونا اور بیٹھنے میں تکلیف محسوس کرنا۔
میرے پاس روزانہ بہت سے لوگ آتے ہیں، عمر 40 سے اوپر، کہتے ہیں بس یہی مسئلہ ہے، کسی کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں بھائی یہ مردوں میں ایک عام بات ہے، عمر کے ساتھ غدود میں سوجن یا بڑھوتری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے۔
اس میں شرمانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ جب اس غدود میں تھوڑی سی سوجن آتی ہے تو یہ پیشاب والی نالی پر دباؤ ڈالتا ہے، اسی لیے بار بار جانا پڑتا ہے، رات کو نیند ٹوٹتی ہے اور بندہ تھکا تھکا رہتا ہے۔
یاد رکھیں، اس کو چھپانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس پر توجہ دینا ضروری ہوتا ہے۔
آج میں دل سے ایک بات کروں گا، پرانے بزرگوں کی طرح۔ دیکھو بیٹا یہ جو مردانہ کمزوری کا مسئلہ ہے نا، اس پر ہمارے ہاں کوئی بات نہیں کرتا، سب شرماتے ہیں۔
یاد رکھو، رشتوں کی مضبوطی کا راز صحت میں ہے! جب مرد کی صحت میں کمزوری آ جاتی ہے تو اس کا اثر سیدھا اس کے گھر پر، اس کے رشتے پر پڑتا ہے۔
میں روز ایسے کئی کو دیکھتا ہوں جو کہتے ہیں حکیم صاحب پہلے جیسی بات نہیں رہی، جسم میں جان نہیں، ہر وقت تھکاوٹ، بیوی کے سامنے شرمندگی۔ میں ان سے کہتا ہوں پتر پریشان نہ ہو، یہ عمر کے ساتھ ہر مرد کے ساتھ ہوتا ہے۔
جب مرد اندر سے کمزور ہو جاتا ہے تو وہ باہر سے بھی ٹوٹ جاتا ہے، اس کا دل کام میں نہیں لگتا، گھر میں لڑائی جھگڑا بڑھ جاتا ہے، اور آہستہ آہستہ میاں بیوی میں دوری آ جاتی ہے۔
ہمارے پرانے لوگ کہتے تھے، مرد کو چاہیے اپنی صحت کا خیال ایسے رکھے جیسے اپنے رشتے کا رکھتا ہے۔ اگر صحت گئی تو سمجھو رشتہ بھی کمزور ہو گیا۔
اس لیے اس مسئلے کو چھپاؤ مت، اس کو نظر انداز مت کرو۔ اگر اس کو وقت پر سمجھ لیا جائے تو رشتے کو بچایا جا سکتا ہے۔
پرانے وقتوں میں ہمارے بزرگ اس کے لیے دیسی جڑی بوٹیوں کا سہارا لیتے تھے، خالص خوراک، اچھی نیند اور فکر کو کم کرنا۔ وہی چیزیں مرد کو اندر سے مضبوط بناتی تھیں۔
آج میں ایک بہت ہی عام مگر بہت اہم مسئلے پر بات کروں گا جس پر ہمارے ہاں کوئی کھل کر بات نہیں کرتا، وہ ہے غدود کا مسئلہ جسے عام زبان میں پروسٹیٹ کہتے ہیں۔
دیکھیں یہ غدود ہر مرد میں موجود ہوتا ہے، یہ مثانے کے بالکل نیچے ہوتا ہے، عمر کے ساتھ ساتھ اکثر مردوں میں اس میں سوجن آ جاتی ہے۔
جب اس غدود میں سوجن آتی ہے تو یہ پیشاب والی نالی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیتا ہے، اسی وجہ سے بندے کو بار بار پیشاب آتا ہے۔
کئی بھائی کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب رات کو 3-4 بار نیند سے اٹھنا پڑتا ہے، پیشاب کر کے آتے ہیں پھر بھی لگتا ہے مثانہ خالی نہیں ہوا، قطرے آتے رہتے ہیں۔
اور یہی سے مردانہ کمزوری کا مسئلہ بھی شروع ہوتا ہے، کیونکہ جب مثانہ ہر وقت بھرا رہے، نیند پوری نہ ہو، جسم تھکا رہے تو قدرتی طور پر مرد کی طاقت میں بھی کمی آنے لگتی ہے۔
یہ کوئی شرم کی بات نہیں، 40 سال کے بعد تقریباً ہر دوسرے تیسرے مرد میں یہ علامات نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
اس کی بڑی وجہ ہمارا آج کل کا طرز زندگی ہے، سارا دن بیٹھے رہنا، پانی کم پینا، قبض رہنا، اور ہر وقت ٹینشن میں رہنا۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں اس کو گھر کی بات سمجھ کر حل کریں۔ سب سے پہلے اپنے معمولات کو ٹھیک کریں۔
ہمارے بزرگوں کے زمانے میں اس کے لیے گرم تاثیر والی خالص چیزوں کا استعمال کیا جاتا تھا جو جسم کو اندر سے مضبوط رکھتی تھیں اور غدود کی سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتی تھیں۔
یہ بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کو شروع میں ہی سمجھ لیا جائے، اس کو چھپایا نہ جائے۔
اب آتے ہیں اس بات پر کہ اگر ہم اس کو نظر انداز کر دیں تو کیا ہو سکتا ہے۔
1. اگر اس سوجن کو نظر انداز کیا جائے تو پیشاب کی رکاوٹ بڑھتی جاتی ہے اور مثانے پر مسلسل دباؤ رہتا ہے۔
2. رات کو بار بار اٹھنے سے نیند پوری نہیں ہوتی، جس سے جسم میں ہر وقت تھکاوٹ اور چڑچڑا پن رہتا ہے۔
3. یہی تھکاوٹ اور اندرونی کمزوری آہستہ آہستہ مردانہ طاقت کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے اعتماد میں کمی آ جاتی ہے۔
4. جب مرد خود کو کمزور محسوس کرتا ہے تو اس کا اثر سیدھا اس کے رشتے پر پڑتا ہے، میاں بیوی میں دوری اور گھر میں بے سکونی پیدا ہونے لگتی ہے۔

اینکر: پروفیسر صاحب آج کل ہر جگہ یہی بات ہو رہی ہے کہ مردوں میں ایک خاص عمر کے بعد کچھ مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، اس کی اصل وجہ کیا ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: دیکھیں بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب بہت عام ہو چکا ہے، لیکن اس پر کھل کر بات کوئی نہیں کرتا۔ اصل میں انسان کے جسم میں مثانے کے بالکل نیچے ایک چھوٹا سا غدود ہوتا ہے۔
عام طور پر 40 سال کے بعد اس غدود میں ہلکی سی سوجن آنا شروع ہو جاتی ہے، یہ ایک قدرتی عمل ہے، تقریباً ہر دوسرے شخص میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
جب اس میں سوجن آتی ہے تو یہ پیشاب والی نالی پر دباؤ ڈالتی ہے، اسی وجہ سے بار بار پیشاب آنا، رات کو نیند سے اٹھنا، اور پیشاب کے بعد بھی قطرے آنے کا احساس ہوتا ہے۔
اینکر: اچھا یہ تو پیشاب والا مسئلہ ہو گیا، لیکن لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس سے مردانہ طاقت بھی کم ہو جاتی ہے، کیا یہ سچ ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: جی یہی وہ بات ہے جو سب سے اہم ہے اور کوئی بتاتا نہیں۔ دیکھیں جب کسی شخص کو رات کو 3 سے 4 بار اٹھنا پڑے، نیند پوری نہ ہو، مثانے پر ہر وقت بوجھ رہے تو جسم تھک جاتا ہے۔
یہ مسلسل تھکاوٹ، نیند کا پورا نہ ہونا، اور اندرونی دباؤ ہی وہ اصل راز ہے جس کی وجہ سے مرد خود کو پہلے جیسا طاقتور محسوس نہیں کرتا۔
پہلے جو اعتماد ہوتا ہے، جو جوش ہوتا ہے، وہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے۔ ایک شخص خود ہی محسوس کرتا ہے کہ اب پہلے والی بات نہیں رہی۔
اینکر: تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ صرف جسمانی کمزوری نہیں ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: بالکل، یہ صرف جسم کا مسئلہ نہیں رہتا۔ جب ایک شخص خود کو کمزور محسوس کرتا ہے تو وہ خود بخود پیچھے ہٹنے لگتا ہے، اس کے اندر ایک ڈر بیٹھ جاتا ہے۔
وہی ڈر اور اعتماد کی کمی مردانہ کمزوری کی شکل اختیار کر لیتی ہے، وہ قریب جانے سے بھی کترانے لگتا ہے۔
میں نے اپنی پریکٹس میں ایسے بہت سے کیس دیکھے ہیں جہاں شخص بالکل خاموش ہو جاتا ہے، کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا، اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے۔
اینکر: اس کا گھر کے ماحول پر کیا اثر پڑتا ہے؟ کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے رشتوں میں بھی مسائل آ رہے ہیں۔
پروفیسر محمد ابراہیم: یہ سب سے تکلیف دہ حصہ ہے۔ جب ایک شخص خاموش ہو جاتا ہے، تو گھر میں اس کی خاموشی کو غلط سمجھا جاتا ہے۔
اینکر نے حیرانی سے کہا: مطلب اسی وجہ سے گھروں میں دراڑیں آنا شروع ہو جاتی ہیں؟ رشتوں میں دوری آ جاتی ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: جی ہاں، جب بات چیت کم ہو جائے، ایک دوسرے سے دوری آ جائے تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے غلط فہمیاں بڑھنے لگتی ہیں۔
ایک طرف وہ شخص اپنی اندرونی کیفیت سے پریشان، دوسری طرف گھر کا ماحول بھی خراب، اس سے ذہنی دباؤ اور بڑھ جاتا ہے۔
اور ایک اور بات جو بہت زیادہ پریشان کرتی ہے وہ ہے قطرے آنے کی وجہ سے کپڑوں کا بار بار ناپاک ہو جانا، وضو کا قائم نہ رہنا، ہر وقت یہی سوچ رہنا۔
اس وہم کی وجہ سے انسان نہ عبادت میں یکسو ہو پاتا ہے نہ ہی روزمرہ کے کاموں میں اس کا دل لگتا ہے۔
لوگ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں، سوچتے ہیں خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، لیکن وقت کے ساتھ یہ دباؤ بڑھتا ہی ہے۔
یاد رکھیں اگر اس کو شروع میں ہی سمجھ لیا جائے تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ آہستہ آہستہ جسم سے نکل کر رشتے اور گھر کے سکون تک کو متاثر کر دیتا ہے۔
اس لیے اس کو چھپانا نہیں چاہیے، اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اپنی روٹین کو بہتر بنائیں، خود کا خیال رکھیں
۔
اینکر: پروفیسر صاحب، سب یہی پوچھ رہے ہیں کہ اس کا کوئی حل بھی ہے؟ کیا آپ ہماری لائیو آڈینس کو بتا سکتے ہیں کہ اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: دیکھیں یہی تو اصل بات ہے جو میں آج بتانا چاہتا ہوں۔ ہوتا یہ ہے کہ لوگ اس پریشانی میں بہت سارے پیسے ضائع کر دیتے ہیں۔
کچھ لوگ کیمیکل والی چیزوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان سے دو تین دن کے لیے عارضی طور پر فرق تو محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے بعد طبیعت پھر ویسی ہی ہو جاتی ہے، اور جسم پر بوجھ الگ پڑتا ہے۔
لوگ اصل حقیقت والی چیزوں پر یقین نہیں رکھتے، جبکہ ہمارے پرانے نظام میں اسی مسئلے کے لیے خالص جڑی بوٹیوں کے اصولوں پر کام ہوتا تھا۔
پروفیسر محمد ابراہیم: آج میں آپ کو ایک ایسی ہی حقیقت والی چیز بتاؤں گا، ایک ایسا گھریلو طرز کا نسخہ جس پر ہمارے بڑے عرصے سے کام کرتے آ رہے ہیں۔
میں نے اپنی پریکٹس میں دیکھا ہے کہ جب جسم کو اندر سے سہارا دیا جائے، سوجن کے حوالے سے عام روٹین کو بہتر بنایا جائے تو اس کے ساتھ ساتھ وہ جو مردانہ کمزوری والی کیفیت ہے، اس میں بھی فرق محسوس ہوتا ہے۔
اسی اصول پر ہمارے مطب میں ایک ہربل طرز کا مجموعہ تیار کیا جاتا ہے جسے ہم معجون آتش کہتے ہیں۔ یہ خالص جڑی بوٹیوں سے بنا ہوا ایک روایتی فارمولا ہے۔
اس میں ایسی جڑی بوٹیاں شامل کی جاتی ہیں جو عام طور پر پروسٹیٹ کی سوجن کے حوالے سے روایتی کتب میں ذکر ہوتی ہیں اور ساتھ ہی مردانہ طاقت کے حوالے سے عمومی تندرستی کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتی آ رہی ہیں۔
یہ کوئی دو تین دن والا عارضی کام نہیں ہے۔ اس کا مقصد جسم کو آہستہ آہستہ اپنی قدرتی روٹین پر واپس لانا ہے۔ جب اندرونی دباؤ کم ہوتا ہے تو نیند بھی بہتر ہوتی ہے اور انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔
اینکر حیران رہ گیا: مطلب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک ہی روایتی فارمولا دونوں حوالوں سے عمومی صحت کو سپورٹ کرنے کے لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: جی، یہی میں کہہ رہا ہوں۔ یہ ہمارے پرانے نسخوں کی بنیاد پر ہے۔ اس میں، نہ کوئی کیمیکل۔ صرف خالص جڑی بوٹیوں کا امتزاج ہے جو جسم کو اندر سے مضبوطی دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اینکر: پروفیسر صاحب یہ تو آپ کہہ رہے ہیں، لیکن ہماری آڈینس کو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ واقعی خالص جڑی بوٹیوں سے بنا ہوا ہے؟ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم: بہت اچھا سوال کیا آپ نے۔ دیکھیں باتوں سے نہیں، کام سے پتہ چلتا ہے۔ میں آپ کو اپنی تیاری کی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔
(سٹوڈیو میں تصویر دکھائی گئی) یہ دیکھیں، یہ ہمارے مطب کی اصل تصویر ہے، یہاں روزانہ کی بنیاد پر اسی طرح ہاتھ سے جڑی بوٹیاں پیس کر یہ فارمولا تیار ہوتا ہے۔
اینکر: (حیران ہوتے ہوئے) یہ تو واقعی میں اتنی ساری جڑی بوٹیاں ہیں؟ اینکر حیران رہ گیا یہ منظر دیکھ کر۔
پروفیسر محمد ابراہیم: جی بالکل، یہی اصل محنت ہے۔ یہ بازار سے بنی بنائی چیز نہیں ہے۔
دیکھیں آج کل ہر کوئی دعویٰ کرتا ہے، لیکن ہم یہی کہتے ہیں کہ خالص چیز کی پہچان اس کی تیاری سے ہوتی ہے۔ یہ کھلے عام تیار ہوتا ہے، کسی بند فیکٹری میں کیمیکل ملا کر نہیں۔
ہم جو استعمال کرتے ہیں وہ صدیوں سے روایتی کتب میں لکھی ہوئی جڑی بوٹیاں ہیں، جو عام طور پر جسم کی اندرونی صفائی اور عمومی تندرستی کو سہارا دینے کے لیے جانی جاتی ہیں۔
لوگوں کا ہم پر اعتماد اسی وجہ سے ہے کہ ہم نے کبھی بھی جلد بازی والا دعویٰ نہیں کیا۔ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ جسم کو وقت دیں، اس کو اندر سے سپورٹ دیں۔
اینکر: تو یہ جو آپ کی مشہور چیز ہے، معجون آتش، یہ اصل میں کیا کام کرتی ہے؟
پروفیسر محمد ابراہیم نے بتایا: دیکھیں معجون آتش ایک روایتی ہربل فارمولا ہے۔ اس کو دو حوالوں سے لوگ یاد رکھتے ہیں۔
1. پروسٹیٹ کے حوالے سے: اس میں شامل روایتی جڑی بوٹیاں عام طور پر مثانے پر دباؤ اور بار بار پیشاب آنے جیسی عمومی کیفیات میں روٹین کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتی آ رہی ہیں۔ اس کا مقصد اندرونی سوجن والی کیفیت میں عمومی آرام کو سپورٹ کرنا ہے۔
2. مردانہ قوت کے حوالے سے: جب مثانے کا دباؤ کم ہوتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، تھکاوٹ کم ہوتی ہے تو قدرتی طور پر مرد خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کرتا ہے۔ اسی عمومی تندرستی اور اعتماد کو سپورٹ کرنے کے لیے اسے روایتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ کوئی جادو نہیں ہے، یہ خالص جڑی بوٹیوں کا مجموعہ ہے جو جسم کو اپنی قدرتی روٹین پر واپس آنے میں مدد دیتا ہے۔
اینکر: پروفیسر صاحب یہ میڈیسن کیا عام میڈیکل سٹور سے بھی مل جائے گی؟
پروفیسر محمد ابراہیم: نہیں، اور اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ ہم نے اس کو عام میڈیکل سٹور پر نہیں دیا۔
وجہ یہ ہے کہ میڈیکل سٹور والے اپنا منافع بہت زیادہ رکھ لیتے ہیں، اور دوسرا وہاں نقل آنے کا ڈر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ عام لوگوں کو اصلی کے بدلے نقلی چیز مل جاتی ہے اور پیسے بھی زیادہ دینے پڑتے ہیں۔
اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ صرف ہماری اپنی سرکاری ویب سائٹ یعنی معجون آتش کے آن لائن سٹور سے ہی ملے گی تاکہ لوگوں کو خالص چیز مناسب قیمت پر سیدھا ہمارے مطب سے مل سکے۔

⚠️ خبردار: نقل سے ہوشیار رہیں ⚠️
یہ اصلی مجونِ آتشیش صرف اسی سرکاری ویب سائٹ سے ملے گی
بازار اور فیس بک پر جعلی اور نقلی پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے
🔥 محدود مدت آفر! 🔥
اصلی قیمت: Rs. 21800
آج کی قیمت: Rs. 10900
50% ڈسکاؤنٹ - صرف سرکاری ویب سائٹ پر
✅ 100% اصلی پراڈکٹ - کیش آن ڈیلیوری
❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. اس کے کیا رزلٹس ہیں؟
اس کے استعمال سے جسمانی کمزوری ختم ہوتی ہے، ٹائمنگ اور قوت میں اضافہ ہوتا ہے اور تھکاوٹ دور ہوتی ہے۔
2. کیا اس کی گارنٹی ہے؟
جی ہاں، یہ 100٪ خالص جڑی بوٹیوں سے بنا ہوا ہے۔ اگر اصلی نہ لگے تو واپس کر سکتے ہیں۔
3. استعمال کا طریقہ کیا ہے؟
رات کو سونے سے پہلے آدھا چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
4. کیا اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ ہے؟
نہیں، اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے کیونکہ یہ مکمل طور پر دیسی اور قدرتی اجزاء سے بنتا ہے۔
5. کتنے دن میں اثر نظر آئے گا؟
اکثر لوگوں کو 7 سے 10 دن میں فرق محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
6. کیا شوگر / بی پی کے مریض استعمال کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، یہ قدرتی ہی
پاکستان بھر میں 2 سے 3 دن کے اندر کیش آن ڈیلیوری پر پارسل مل جائے گا۔ نہیں، مکمل رازداری رکھی جاتی ہے۔ پارسل بالکل سادہ ہوگا۔ جی ہاں، یہ اس پراڈکٹ کی آفیشل اور سرکاری ویب سائٹ ہے۔ یہاں سے اصلی پراڈکٹ 50% ڈسکاؤنٹ پر مل رہا ہے۔ مستقل اور مکمل فائدے کے لیے کم از کم 1 ماہ کا کورس ضرور کریں۔7. ڈیلیوری کتنے دن میں ہوگی؟
8. کیا پارسل پر پراڈکٹ کا نام لکھا ہوگا؟
9. کیا یہ سرکاری ویب سائٹ ہے؟
10. کتنا کورس کرنا چاہیے؟
